ہفتہ، 20 جولائی، 2013

ماں


> موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
>
> تب کہیں جا کے تھوڑا سا سکون پاتی ہے ماں
>
> روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھو
>
> چوٹ لگتی ہے ہمیں اور چلاتی ہے ماں
>
> مانگتی ہے کچھ نہیں اپنے لئے اللہ سے
>
> اپنے بچوں کیلئے دامن کو پھیلاتی ہے ماں
>
> ماں کسے کہتے ہیں اور ممتا کیا چیز ہے
>
> کوئی ان بچوں سے پوچھو جن کی گزر جاتی ہے ماں
>
> چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائیں دوستو
>
> جب مصیبت سر پہ آتا ہے تو یاد آتی ہے ماں
>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

You are welcome to comment here...